پاکستان میں کرپٹو بینک اکاؤنٹ: SBP کے Client Money Account کیسے کام کرتے ہیں؟

پاکستان میں کرپٹو بینک اکاؤنٹ کے بارے میں نئی خبریں پڑھتے وقت ایک بات الگ رکھیں: اسٹیٹ بینک کا سرکلر ہر شخص کو عام بینک اکاؤنٹ سے کرپٹو خریدنے کی کھلی اجازت نہیں دیتا۔ BPRD Circular Letter No. 10 of 2026 نے PVARA کے licensed Virtual Asset Service Providers اور ان کے مخصوص تصفیہ جاتی انتظامات کے لیے بینک اکاؤنٹس کا راستہ بیان کیا ہے۔ یہ اصول 14 اپریل 2026 کو جاری ہوا اور اس نے 2018 کے پرانے سرکلر کو تبدیل کیا۔ صارف کو یہ سمجھنا چاہیے کہ Client Money Account کیا ہے، NOC اور مکمل license میں کیا فرق ہے، اور رقم بھیجنے سے پہلے کس چیز کی تصدیق کرنی ہے۔

اصل شرائط کے لیے State Bank of Pakistan کا Circular Letter No. 10 اور کمپنی کی اجازت کے لیے PVARA کی لائسنسنگ رہنمائی پڑھیں۔ خبر کے عنوان سے یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ ہر موبائل ایپ، P2P seller یا بیرون ملک ایکسچینج اب پاکستانی بینک کے ذریعے منظور شدہ ہے۔

پاکستان میں کرپٹو بینک اکاؤنٹ کے اصول کس کے لیے ہیں؟

SBP کا سرکلر بینکوں کو ہدایت دیتا ہے کہ PVARA سے جاری درست license کی نقل حاصل کریں اور onboarding سے پہلے اس کی authenticity PVARA سے آزادانہ طور پر verify کریں۔ licensed VASP کے business model کے مطابق بینک الگ Client Money Accounts کھول سکتے ہیں تاکہ authorized customer transactions کی settlement ہو۔ کمپنی کے اپنے پیسے اور کلائنٹس کی رقم کو ملانا منع ہے، اور بینک کو کمپنی، اس کے کاروبار، اس کے گاہکوں اور جغرافیائی markets کے بارے میں due diligence کرنی ہوتی ہے۔

اگر کسی ادارے کے پاس صرف PVARA کا No Objection Certificate ہو تو سرکلر اس کے لیے محدود مقصد کا اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت کا ذکر کرتا ہے، تاکہ license حاصل کرنے کی formalities مکمل ہوں۔ سرکلر واضح کرتا ہے کہ اضافی خدمات، جن میں virtual asset transaction activity بھی شامل ہے، مکمل license ملنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہیں۔ اس لیے NOC کو مکمل operating licence یا صارف کے لیے ہر قسم کی ادائیگی کی منظوری نہ سمجھیں۔

Client Money Account کی اہم پابندیاں

اسٹیٹ بینک کی شرائط کے مطابق CMA پاکستانی روپے میں اور non-remunerative ہونا چاہیے؛ اس میں نقد رقم جمع یا نقد نکالنے کی اجازت نہیں۔ یہ رقم VASP کو credit یا financing دینے کے لیے collateral یا security کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتی۔ کھاتے کا مقصد صرف اجازت یافتہ VASP transactions کی settlement ہے۔ یہ پابندیاں اس لیے اہم ہیں کہ صارف کو کمپنی کے operating funds اور اپنے customer funds کے درمیان واضح separation نظر آنا چاہیے۔

بینک بھی اپنے فنڈز یا customer deposits سے virtual assets خرید، trade یا hold نہیں کر سکتے۔ انہیں VASP سے تعلق کے دوران risk profiling، ongoing monitoring اور suspicious transaction reporting سمیت متعلقہ قوانین پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بینک آپ کے crypto کی قیمت، منافع یا واپسی کی ضمانت دے رہا ہے۔ بینک کا کردار مالی کھاتے اور ادائیگیوں کے ضابطے میں ہے؛ بلاک چین پر اثاثے کی custody، قیمت کا خطرہ اور platform کے operational risks الگ رہتے ہیں۔

رقم بھیجنے سے پہلے پانچ تصدیقیں

  • ایپ یا ویب سائٹ کے بجائے کمپنی کا قانونی نام اور رجسٹریشن دیکھیں۔
  • PVARA سے پوچھیں کہ کمپنی کے پاس NOC ہے یا مکمل license، اور وہ کس خدمت کے لیے ہے۔
  • اگر کمپنی bank settlement کا دعویٰ کرے تو پوچھیں کہ ادائیگی authorized CMA route میں جاتی ہے یا ذاتی اکاؤنٹ میں۔
  • رقم جمع کرانے سے پہلے bank account کے beneficiary name کو کمپنی کے قانونی نام سے ملائیں۔
  • رسید، transaction reference، گفتگو اور withdrawal policy کی اپنی نقل محفوظ رکھیں۔

اگر کوئی agent ذاتی بینک اکاؤنٹ، دوسرے شخص کا wallet یا غیر رسمی P2P ادائیگی مانگے تو صرف “SBP نے اکاؤنٹس کھول دیے” کہہ کر اسے جائز نہ سمجھیں۔ سرکلر VASP کے regulated accounts اور ان کے customer settlement کے لیے ہے؛ اس سے ہر فرد کو دوسرے افراد کے ساتھ bank transfer کے ذریعے کرپٹو خریدنے کی عمومی اجازت ثابت نہیں ہوتی۔ پیسے بھیجنے سے پہلے کمپنی اور ادائیگی کے راستے کی تصدیق الگ الگ کریں۔

عام بینک ٹرانسفر اور regulated CMA میں فرق

عام ذاتی بینک اکاؤنٹ میں کسی unknown فرد کو رقم بھیجنا اور licensed VASP کے settlement account میں ادائیگی کرنا ایک جیسی چیز نہیں۔ پہلے طریقے میں ادائیگی کا مقصد اور وصول کنندہ واضح نہ ہو تو بینک کی جانچ یا شکایت کے وقت وضاحت مشکل ہو سکتی ہے۔ دوسرے طریقے میں بھی صارف کو اپنے platform terms، account title، fee schedule، identity checks اور transaction confirmation پڑھنی چاہیے۔ صرف کمپنی کے لوگو یا WhatsApp message کو ثبوت نہ سمجھیں۔

اگر ادائیگی واپس آ جائے یا VASP account میں credit نہ ہو تو bank reference، وقت، beneficiary name، application receipt اور support ticket number ایک جگہ محفوظ کریں۔ اپنا password، seed phrase، one-time code یا private key کسی support agent کو نہ دیں؛ بینک یا regulator کو بھی wallet secret درکار نہیں ہونا چاہیے۔ رسمی شکایت درج کرتے وقت صرف اتنا data دیں جو ادارہ اپنے سرکاری channel پر مانگتا ہے، اور اس کا reference number لکھ لیں۔

PVARA کے license اور NOC کو ایک نہ سمجھیں

PVARA کاروباروں کو license دینے اور ان کی نگرانی کے لیے قائم ہے۔ اس کی licensing page کے مطابق کسی VASP کو پاکستان میں کاروبار کے طور پر virtual asset services دینے سے پہلے متعلقہ category کا formal license درکار ہے۔ SBP کا سرکلر limited-purpose NOC account اور مکمل licensed VASP کے bank servicing میں واضح فرق کرتا ہے۔ کسی ایپ میں account کھل جانا یا bank transfer کا option دکھائی دینا خودبخود regulator approval نہیں ہے۔

اگر public register میں کمپنی نہ ملے تو اس کے دعوے کو خود verify کیے بغیر رقم نہ بھیجیں۔ اس کے قانونی نام، license number اور permitted activity کے بارے میں PVARA کے official contact سے تصدیق کریں۔ NOC کے بارے میں دعویٰ ہو تو پوچھیں کہ وہ کس مرحلے اور کس محدود مقصد کے لیے ہے۔ ایک ہی برانڈ مختلف ملکوں میں مختلف کمپنیوں کے تحت چل سکتا ہے؛ آپ کے سامنے موجود پاکستانی entity کی جانچ ضروری ہے۔

صارف کے لیے مختصر نتیجہ

2026 کا SBP سرکلر پاکستان میں licensed VASPs کے بینکنگ تصفیے کے لیے مخصوص framework بناتا ہے۔ CMA روپے میں، non-interest-bearing اور cashless ہے؛ customer funds کمپنی کے پیسے سے الگ رہنے چاہئیں؛ اور NOC رکھنے والے ادارے کو مکمل license سے پہلے crypto transaction services کے لیے وہی اختیار نہیں ملتا۔ جب تک آپ provider اور account route کی تصدیق نہ کر لیں، کسی فرد کے ذاتی اکاؤنٹ میں رقم منتقل نہ کریں۔

یہ مالی یا قانونی مشورہ نہیں، اور bank account route کرپٹو کی قیمت، liquidity یا custody risk ختم نہیں کرتا۔ مزید operational guides کے لیے CryptoSigy کے exchange اور account guides اور اردو میں مزید کرپٹو مضامین دیکھیں۔